Skip to main content

احمد فرہاد دو ہزار کی دہائی میں سامنے آنے والے ان شاعروں میں سر فہرست ہیں جنہیں عوام کے ساتھ ساتھ خواص میں بھی پزیرائی حاصل ہوئی ۔ احمد فرہاد کی شاعری رومان، مزاحمت ، فکر اور تیکھے پن کا حسین امتزاج ہے۔ ان کی تین مزاحمتی غزلیں "کافر ہوں سر پھرا ہوں مجھے مار دیجیے”،”کہا گیا ہے سنا گیا ہے کوئی نہ بولے”اور” یہ اپنی مرضی سے سوچتا ہے اسے اٹھا لو”، سوشل میڈیا کی مقبول ترین غزلوں میں شمار ہوتی ہیں جنہیں لاکھوں لوگوں نے دیکھا سنا پڑھا اور سراہا ۔احمد فرہاد ایک معروف میڈیا کنسلٹنٹ، نغمہ نگار اور کانسپٹ رائٹر بھی ہیں جو کئی ٹی وی چینلز کی کانسپچول برینڈنگ کر چکے ہیں ۔احمد فرہاد ایک دبنگ دانشور اور موٹیوشنل سپیکر کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں جبکہ ان کی تراجم اور تحقیق پر مشتمل چار کتابیں بھی منظر عام پر آ چکی ہیں ۔

Leave a Reply