Skip to main content

محبت سے جو پالا تھا وہ بچھڑا بیچ آیا ہوں
جو میری گود میں کھیلا وہ بکرا بیچ آیا ہوں

کسی کی رسم کی خاطر کلیجہ بیچ آیا ہوں
میں قربانی کے دھوکے میں کھلونا بیچ آیا ہوں

وہ منڈی تھی کسے فرصت وہاں رشتے سمجھ پاتا !
وہ کہتے تھے کہ مہنگا ہے میں سستا بیچ آیا ہوں

ٹریفک سے اٹی گلیوں میں شہزادہ پڑا ہو گا
وہ اسماعیل تھا میرا میں بیٹا بیچ آیا ہوں

خُدا کے حکم پر عابی ہمارے جسم و جاں حاضر !
میں گائے کے لیے منڈی میں بَٹوا بیچ آیا ہوں

عابی مکھنوی

Leave a Reply