Skip to main content

اسے یہ عید مبارک کہ جس کی آنکھوں میں
کسی وصال کی خوشبو کسی ملن کی چمک
اسے یہ عید مبارک کہ جس کے چہرے پر
کسی کے قرب کی حدت کسی نظر کی لپک
اسے یہ عید مبارک کہ جس کے ہاتھوں میں
کسی کے نام کی مہندی کسی دعا کی شفق
اسے یہ عید مبارک کہ جس کے آنگن میں
خوشی کا رقص،تمنا کا راگ،سکھ کی للک

ہمیں نہ دو یہ مبارک کہ ہم اسیرِ وفا
ہمیں نہ دو یہ مبارک کہ ہم قتیلِ انا
ہمیں نہ دو یہ مبارک کہ ہم امینِ عزا
ہمیں نہ دو یہ مبارک کہ ہم رہینِ جفا

خوشی سے درد کا صدقہ اتار لیتے ہیں
یہ دن بھی سوگ مناتے گزار لیتے ہیں

احمد فرہاد

Leave a Reply