Skip to main content

کرتے ہیں پری زاد تماشا مرے آگے
ہنسنا مرے پیچھے ہے تو رونا مرے آگے

کیا کیا نہ کُھلا دستِ ہُنرکار سے ورنہ
اس بار عجب بندِ قبا تھا مرے آگے

تم کون ہو جو راہ کی دیوار بنو گے
میں آپ ہی آیا ہوں ہمیشہ مرے آگے

اب کُھلنے لگا ہےتو غضب کُھلنے لگا ہے
وہ شخص جو کُھلتا ہی نہیں تھا مرے آگے

فرہاد ہوں سو خود ہوں سند کارِ جنوں میں
مجنوں کا کبھی نام نہ لینا مرے آگے

احمد فرہاد

Leave a Reply